حدیث نمبر: 11274
عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ : ( وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ ) وَهُوَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْإِسْلَامِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ ) قَالَ : كَانَ يُخْفِي فِي نَفْسِهِ وَدَّ أَنَّهُ طَلَّقَهَا . قَالَ : قَالَ الْحَسَنُ : مَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ آيَةٌ كَانْتَ عَلَيْهِ أَشَدَّ مِنْهَا قَوْلُهُ : ( وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ ) وَلَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْيِ لَكَتَمَهَا ( وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ ) قَالَ : خَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَةَ النَّاسِ ( فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا ) فَلَمَّا طَلَّقَهَا زَيْدٌ زَوَّجْنَاكَهَا قَالَ : فَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَمَّا أَنْتُنَّ فَزَوَّجَكُنَّ آبَاؤُكُنَّ وَأَمَّا أَنَا فَزَوَّجَنِي ذُو الْعَرْشِ ( وَاتَّقِ اللَّهَ ) قَالَ : جَعَلَ يَقُولُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهَا قَدِ اشْتَدَّ عَلَيَّ خُلُقُهَا وَإِنِّي مُطَلِّقٌ هَذِهِ الْمَرْأَةَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَالَ لَهُ زَيْدٌ ذَلِكَ قَالَ لَهُ : ( أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

قتادہ ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب تم نے اس شخص سے یہ کہا: جس پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ہے اور تم نے بھی اس پر انعام کیا ہے “ اس سے مراد ، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ انعام کیا تھا کہ انہیں اسلام کی توفیق دی اور تم نے ان پر یہ انعام کیا کہ اللہ کے رسول نے انہیں آزاد کیا تھا ( تم نے اسے یہ کہا: جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہیں : ) ” تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو ! اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تم اپنے من میں وہ چیز چھپا رہے تھے ، جسے اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا “ ۔ قتادہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے من میں یہ بات چھپائی ہوئی تھی کہ آپ کی یہ خواہش تھی کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس خاتون کو طلاق دے دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حسن نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی ، جو آپ کے لئے اس سے زیادہ دشوار ہو ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : ” تم اپنے من میں وہ چیز چھپا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپانی ہوتی ، تو آپ اس آیت کو چھپا لیتے : ” اور تم لوگوں سے اندیشہ رکھتے ہو ، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو “ ۔ حسن کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات کے بارے میں اندیشہ تھا ۔ ” اور جب زید نے اس خاتون کے حوالے سے فیصلہ کر لیا “ ۔ یعنی جب سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو طلاق دے دی ۔ ” تو ہم نے تمہاری شادی “ اُس خاتون کے ساتھ کروا دی “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اس حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج کے سامنے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا: کرتی تھیں : تمہاری شادیاں ، تو تمہارے باپ داداؤں نے کروائی ہیں میری شادی عرش والی ذات نے کروائی ہے ۔ ” اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے یہ گزارش کی تھی کہ اے اللہ کے نبی ! اس خاتون کے اخلاق میرے لئے دشواری کا باعث بن رہے ہیں ، اور میں اس خاتون کو طلاق دینا چاہتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا ، جب سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں یہ گزارش کی تھی : ” کہ تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایسے رجال کے حوالے سے نقل کی ہے ، جن میں سے بعض صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (42/24)»