مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
39 - 33 - سُورَةُ السَّجْدَةِ قَوْلُهُ تَعَالَى : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ باب: سورت سجدہ کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “
حدیث نمبر: 11267
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ لِلَّذِينِ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَإِنَّهُ لَفِي الْقُرْآنِ ( فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں تورات میں یہ بات مذکور ہے کہ وہ لوگ جن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں ان کے لئے وہ چیزیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہیں کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں ان کے بارے میں خیال نہیں بھی آیا ہو گا اور قرآن میں اس بارے میں یہ الفاظ ہیں : ” کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کے حوالے سے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔