حدیث نمبر: 11240
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِنِينَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ الْآيَةَ ، ثُمَّ نَزَلَتْ إِلَّا مَنْ تَابَ فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرِحَ فَرَحًا قَطُّ أَشَدَّ مِنْهُ بِهَا وَبِ "إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، وَقَدْ وُثِّقَا وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم نے کئی سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، اس آیت کی تلاوت کی ہے : ” اور وہ لوگ ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں ، اور کسی ایسی جان کو قتل نہیں کرتے ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے ہیں “ ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : ” البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو توبہ کر لے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا ، جتنا خوش آپ اس آیت کے نزول پر ہوئے تھے ، اور جتنا خوش آپ ﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾ ( بے شک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کر دی ہے ) کے نزول پر ہوئے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے علی بن زید کی یوسف بن مہران سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11240
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12935)»