حدیث نمبر: 11238
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَرْغَبُونَ فِي النَّفِيرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَدْفَعُونَ مَفَاتِيحَهُمْ إِلَى ضُمَنَائِهِمْ وَيَقُولُونَ لَهُمْ : قَدْ أَحْلَلْنَا لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِمَّا أَحْبَبْتُمْ ، فَكَانُوا يَقُولُونَ : إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَنَا ، إِنَّهُمْ أَذِنُوا عَنْ غَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پہلے مسلمان اس بات کی خواہش رکھتے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوں ، وہ جاتے ہوئے اپنی چابیاں اپنے ضامن لوگوں کے حوالے کر دیتے تھے ، اور ان سے یہ کہتے تھے : کہ ہم تمہارے لئے یہ بات حلال قرار دیتے ہیں کہ تم جو چاہو وہ کھا لو ، تو وہ لوگ یہ کہتے تھے : ہمارے لئے یہ حلال نہیں ہے ، جبکہ انہوں نے اپنی رضامندی کے ساتھ یہ اجازت نہیں دی ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اور نابینا شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے ، لنگڑے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور بیمار پر کوئی گناہ نہیں ہے ، اور تم لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اگر تم اپنے گھروں میں سے ، یا اپنے باپ دادا کے گھروں میں سے ، یا اپنی ماؤں کے گھروں میں سے ، یا اپنے بھائیوں کے گھروں میں سے ، یا اپنی بہنوں کے گھروں میں سے ، یا اپنے چچاؤں کے گھروں میں سے ، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں میں سے ، یا اپنے ماموؤں کے گھروں میں سے ، یا اپنی خالاؤں کے گھروں میں سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” یا وہ جن کی چابی کے تم مالک ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2241)»