مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
تَفْسِيرُ قِصَّةِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کی تفسیر
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ يَقُولُ : الْخَبِيثَاتُ مِنَ الْقَوْلِ لِلْخَبِيثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْخَبِيثُونَ مِنَ الرِّجَالِ لِلْخَبِيثَاتِ مِنَ الْقَوْلِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ يَقُولُ : وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ الْقَوْلِ لِلطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ ، نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ قَالُوا فِي زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالُوا مِنَ الْبُهْتَانِ ، وَيُقَالُ : الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ : الْأَعْمَالُ الْخَبِيثَةُ تَكُونُ لِلْخَبِيثِينَ ، وَالطَّيِّبَاتُ مِنَ الْأَعْمَالِ تَكُونُ لِلطَّيِّبِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَكُلُّ إِسْنَادٍ مِنْهَا فِيهِ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ ، وَرَوَاهُ مَوْقُوفًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَى نَحْوَهُ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ” خبیث چیزیں ، خبیث لوگوں کے لئے مخصوص ہیں اور خبیث لوگ ، خبیث چیزوں کے لئے مخصوص ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یعنی خبیث قول ، خبیث مردوں کے لئے مخصوص ہے اور خبیث لوگ ، خبیث اقوال کے لئے مخصوص ہیں ۔ ” اور پاکیزہ چیزیں ، پاکیزہ لوگوں کے لئے ہیں “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یعنی پاکیزہ قول ، پاکیزہ لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے بارے میں بہتان لگایا تھا تو یہ بات کہی گئی کہ خبیث باتیں ، خبیث لوگوں کے لئے ہیں ، یعنی خبیث اعمال بھی خبیث لوگوں کے لئے ہوں گے ، اور پاکیزہ اعمال پاکیزہ لوگوں کے لئے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ہر ایک سند میں ایسا ضعیف راوی موجود ہے جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے
یہ روایت سعید بن جبیر پر موقوف روایت کے طور پر دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اس کی مانند روایت ضحاک بن مزاحم کے حوالے سے نقل کی ہے جس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔