مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہم نے انہیں عذاب کے ذریعے گرفت میں لے لیا تو وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے نہیں تھے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جَاءَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ ، قَدْ أَكَلْنَا الْعِلْهِزَ - يَعْنِي الْوَبَرَ وَالدَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوسفیان بن حرب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ ہمیں پریشانی نے نگل لیا ہے ، یعنی مصائب اور قتل ہونے نے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور ہم نے انہیں عذاب کی گرفت میں لے لیا تو وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے اور گریہ وزاری کرنے والے نہیں تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حسین بن واقد ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔