مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تکبر کرتے ہوئے اس بارے میں گفتگو کرتے تھے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ : مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَهْجُرُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شِعْرِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : فِي رِوَايَةِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ عَنْهُ مَنَاكِيرُ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِنْهَا . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ آیت تلاوت کرتے تھے : ” تم لوگ تکبر کرتے ہوئے اس کے بارے میں رات کے وقت بے ہودہ گفتگو کیا کرتے تھے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مشرکین اپنے اشعار میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فضول گفتگو کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کے بیٹے ابراہیم نے اس سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔