مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص اس میں ظلم کے ہمراہ الحاد کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے “
عَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ خَرَجُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ : عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَأَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَوَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَأَبُو سَلَمَةَ ابْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ وَامْرَأَتُهُ أُمُّ سَلَمَةَ ، وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ وَمَعَهُ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَهَبُوا الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَوْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا بِخَيْرٍ أَقْرَرْنَاهُ وَأَصْحَابَهُ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ أَحَدًا مِمَّنْ خَالَفَ دِينَهُ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى بِمِثْلِ الَّذِي يَذْكُرُ بِهِ آلِهَتَنَا مِنَ الشَّتْمِ وَالشَّرِّ . فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ وَقَرَأَ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِيهَا عِنْدَ ذَلِكَ ذِكْرَ الطَّوَاغِيتِ ، فَقَالَ : وَإِنَّهُمْ مِنَ الْغَرَانِيقِ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُمْ لَتُرْتَجَى ، وَذَلِكَ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ ، فَوَقَعَتْ هَاتَانِ الْكَلِمَتَانِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُشْرِكٍ ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ وَاسْتَبْشَرُوا بِهَا وَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ الْأَوَّلِ وَدِينِ قَوْمِهِ . فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا النَّجْمُ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ كُلُّ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ مُسْلِمٍ وَمُشْرِكٍ ، غَيْرَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ رَجُلًا كَبِيرًا فَرَفَعَ مِلْءَ كَفِّهِ تُرَابًا فَسَجَدَ عَلَيْهِ ، فَعَجِبَ الْفَرِيقَانِ كِلَاهُمَا مِنْ جَمَاعَتِهِمْ فِي السُّجُودِ لِسُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَعَجِبُوا مِنْ سُجُودِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ إِيمَانٍ وَلَا يَقِينٍ ، وَلَمْ يَكُنِ الْمُسْلِمُونَ سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ عَلَى أَلْسِنَةِ الْمُشْرِكِينَ ، وَأَمَّا الْمُشْرِكُونَ فَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَهُمُ الشَّيْطَانُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَرَأَهَا فِي السَّجْدَةِ فَسَجَدُوا لِتَعْظِيمِ آلِهَتِهِمْ . فَفَشَتْ تِلْكَ الْكَلِمَةُ فِي النَّاسِ ، وَأَظْهَرَهَا الشَّيْطَانُ حَتَّى بَلَغَتِ الْحَبَشَةَ . فَلَمَّا سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ النَّاسَ أَسْلَمُوا وَصَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَهُمْ سُجُودُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَلَى التُّرَابِ عَلَى كَفِّهِ ، أَقْبَلُوا سِرَاعًا ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا أَمْسَى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَا إِلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا بَلَغَهَا تَبَرَّأَ مِنْهَا جِبْرِيلُ وَقَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ هَاتَيْنِ ، مَا أَنْزَلَهُمَا رَبِّي ، وَلَا أَمَرَنِي بِهِمَا رَبُّكَ . فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ : " أَطَعْتُ الشَّيْطَانَ وَتَكَلَّمْتُ بِكَلَامِهِ وَشَرَكَنِي فِي أَمْرِ اللَّهِ " . فَنَسَخَ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ فَلَمَّا بَرَّأَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ انْقَلَبَ الْمُشْرِكُونَ بِضَلَالِهِمْ وَعَدَاوَتِهِمْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَلَا يُحْتَمَلُ هَذَا مِنَ ابْنِ لَهِيعَةَ . ¤عروہ بن زبیر ان لوگوں کے نام بیان کرتے ہیں : جو حبشہ کی سرزمین کی طرف پہلی مرتبہ گئے تھے یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے جانے سے پہلے کی بات ہے وہ حضرات یہ ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ تھیں اور انہوں نے حبشہ کی سرزمین پر ان صاحب کے صاحبزادے سیدنا محمد بن ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جن کا تعلق بنوعبددار سے ہے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوسبرہ بن ابورحم رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت سہیل بن عمرو تھیں اور سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : یہ لوگ جو سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے پہلے ہی پہلی مرتبہ میں گئے تھے یہ لوگ واپس آ گئے تھے جب اللہ تعالیٰ نے وہ سورت نازل کی تھی جس میں یہ ذکر تھا : ” ستارے کی قسم ہے جب وہ نیچے کی طرف آیا “ ۔ مشرکین نے یہ کہا: تھا اگر یہ صاحب ہمارے معبودوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ کریں تو ہم انہیں ، اور ان کے ساتھیوں کو رہنے دیں گے کیونکہ یہ اپنے مخالف ادیان میں سے یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر اس طرح نہیں کرتے جس طرح یہ ہمارے معبودوں کا ذکر برائی اور خرابی کے ہمراہ کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی جس میں یہ ذکر ہے : ” اور ستارے کی قسم ہے “ ۔ اور اس میں یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی : ” کیا تم نے لات اور عزی کو دیکھا ہے ، اور منات کو دیکھا ہے جو تیسرا ہے “ ۔ تو اس وقت شیطان نے بتوں کا ذکر القاء کیا ، اور اس نے یہ کہا: وَإِنَّهُمْ مِنَ الْغَرَانِيقِ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُمْ لَتُرْتَجَى یہ کلمات شیطان کے ایجاد کیے ہوئے تھے ، اور اس کا فتنہ تھے اور یہ دو کلمات ہر مشرک کے دل میں واقع ہو گئے اور ان کی زبانوں پر جاری ہو گئے اور انہوں نے اس کے ذریعے خوشخبری حاصل کی اور انہوں نے یہ کہا: سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے پہلے دین کی طرف اور اپنی قوم کے دین کی طرف رجوع کر لیا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے آخر میں اس مقام پر پہنچے جہاں سجدے کا ذکر ہے ، تو آپ نے سجدہ کیا ، اور آپ کے ساتھ موجود ہر مسلمان اور ہر مشرک شخص نے سجدہ کیا صرف ولید بن مغیرہ نے ایسا نہیں کیا وہ ایک بڑا شخص تھا اس نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اس پر سجدہ کر لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کے ساتھ دونوں گروہوں کا سجدہ کرنا دونوں گروہوں کو اچھا لگا مسلمانوں کو یہ بات اچھی لگی کہ مشرکین نے ایمان لائے بغیر اور یقین کا اظہار کیے بغیر سجدہ کیا ہے کیونکہ مسلمانوں نے وہ بات نہیں سنی تھی جو شیطان نے مشرکین کی زبانوں پر القاء کی تھی اور مشرکین اس حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطمئن تھے اور شیطان نے انہیں یہ بات سکھا دی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت سجدے کے دوران تلاوت کی ہے ، تو ان لوگوں نے اپنے معبودوں کی تعظیم کی خاطر سجدہ کیا تھا ۔ یہ کلمات لوگوں کے درمیان پھیل گئے شیطان نے اسے مشہور کر دیا یہ اطلاع حبشہ تک بھی پہنچ گئی یہاں تک کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں نے یہ بات سنی کہ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل گئے ہیں ان لوگوں کو یہ بھی پتہ چلا کہ ولید بن مغیرہ نے بھی اپنی ہتھیلی پر رکھی ہوئی مٹی پر سجدہ کیا ہے ، تو یہ لوگ تیزی سے مکہ آ گئے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزری جب شام ہوئی اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اس بات کی شکایت کی سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی فرمائش پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی جب وہ اس مقام پر پہنچے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے ان کلمات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ، اور کہا: ان دونوں کلمات سے اللہ کی پناہ ہے نہ تو میرے پروردگار نے ان دونوں کو نازل کیا ہے ، اور نہ ہی آپ کے پروردگار نے ان دونوں کے بارے میں مجھے حکم دیا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی تو یہ بات آپ پر گراں گزری آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے شیطان کی اطاعت کر لی ہے ، اور میں نے اس کے کلام کے مطابق کلام کر لیا ہے ، اور وہ اللہ کے معاملے میں میرا شریک بن گیا ہے ، تو شیطان نے جو چیز القاء کی تھی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا اور آپ پر یہ آیت نازل کی : ” اور تم سے پہلے ہم نے جس بھی رسول یا نبی کو مبعوث کیا تو جب وہ نبی تلاوت کرتا ہے ، تو شیطان اس کی تلاوت کے درمیان کوئی چیز القاء کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس چیز کو مٹا دیتا ہے جو شیطان نے القاء کی ہوئی ہو اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو مضبوط کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ علم والا اور حکمت والا ہے اس کی وجہ یہ ہے شیطان نے جو چیز القاء کی تھی اسے وہ ان لوگوں کے لئے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے ، اور ان کے دل سخت ہیں ، اور بے شک ظلم کرنے والے لوگ شدید مخالفت میں مبتلا ہیں “ ۔ تو جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شیطان کے ایجاد کیے ہوئے کلمات اور اس کے فتنے سے لاتعلق کر دیا تو مشرکین اپنی گمراہی اور اپنی دشمنی پر پلٹ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت اس سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور
یہ روایت اس بات کا احتمال نہیں رکھتی کہ یہ ابن لہیعہ سے منقول ہو ۔