مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص اس میں ظلم کے ہمراہ الحاد کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے “
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ قَالَ : مَنْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا فِي سِوَى الْبَيْتِ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْمَلَهَا ، وَمِنْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا فِي الْبَيْتِ لَمْ يُمِتْهُ اللَّهُ حَتَّى يُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جو شخص اس میں ظلم کے ہمراہ الحاد کا ارادہ کرے گا ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے جسے وہ بیت اللہ کے علاوہ کہیں ، اور سر انجام دینا چاہتا ہو ، تو اس کے خلاف وہ گناہ اس وقت تک نوٹ نہیں ہو گا جب تک وہ اس گناہ کا ارتکاب نہیں کر لے گا اور جو شخص کسی ایسے گناہ کا ارادہ کرے جسے وہ بیت اللہ میں سر انجام دینا چاہتا ہو ( یعنی حرم کی حدود میں سر انجام دینا چاہتا ہو ) تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اسے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک اسے درد ناک عذاب نہیں چکھا دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔