حدیث نمبر: 11187
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَمْلَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ إِلَى ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِهَا خُتِمَتْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت مجھے املاء کروا رہے تھے : ” ہم نے انسان کو مٹی کے خاص اجزا سے پیدا کیا ہے “ ۔ یہ آیت آپ نے یہاں تک تلاوت فرمائی : ” پھر ہم اسے دوسری تخلیق میں پروان چڑھائیں گے “ ۔ تو سیدنا معاذ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو بہترین خالق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ آیت ان کلمات پر ختم ہوتی ہے : ” اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11187
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف