حدیث نمبر: 11182
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ : يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا قَالَ : " ذَلِكَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، وَذَلِكَ يَوْمُ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِآدَمَ : قُمْ فَابْعَثْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ : مِنْ كَمْ يَا رَبِّ ؟ قَالَ : مِنْ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَنْجُو وَاحِدٌ " . فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَعَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَبْصَرَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ : " إِنَّ بَنِي آدَمَ كَثِيرٌ ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ مِنْ وَلَدِ آدَمَ ، وَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى يَرِثَهُ لِصُلْبِهِ أَلْفُ رَجُلٍ ، فَفِيهِمْ وَفِي أَشْبَاهِهِمْ جُنَّةٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَاسْتَحْسَنَ أَبُو حَاتِمٍ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ دن کہ جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ قیامت کا دن ہو گا اور اس دن اللہ تعالٰی سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا : تم اٹھو اور اپنی اولاد میں سے مخصوص لوگوں کو جہنم میں بھیج دو وہ عرض کریں گے : اے میرے پروردگار ! کتنے میں سے کتنے لوگوں کو ؟ تو پروردگار فرمائے گا : ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے کو اور ایک شخص نجات پائے گا یہ بات مسلمانوں کو گراں گزری ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ صورت حال جان لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے چہروں پر یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اولاد آدم بہت سی ہے ، اور یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہوں گے اور یاجوج ماجوج میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کی سگی اولاد میں سے ایک ہزار لوگ اس کے وارث نہیں بنیں گے ، تو ان لوگوں اور ان جیسے دیگر لوگوں میں تمہارے لئے ڈھال ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، اور وہ متروک ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11182
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12034)»