کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت حج کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو ! بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “
حدیث نمبر: 11181
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ : يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " ذَلِكَ يَوْمُ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ، فَيَقُولُ : وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ فَيَقُولُ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " . فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ إِنِّي لَأَرْجُوا أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلَ الْجَنَّةِ ] إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ الْجَنَّةِ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا ، فَإِنَّكُمْ بَيْنَ خَلِيقَتَيْنِ لَمْ يَكُونَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي الْأُمَمِ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ ، أُمَّتِي جُزْءٌ مِنْ أَلْفِ جُزْءٍ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی اس وقت آپ کے اصحاب آپ کے پاس موجود تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو ! بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے “ ۔ آپ نے اسے آیت کے آخر تک تلاوت کیا پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو وہ کیسا دن ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ دن ہو گا کہ جب اللہ تعالی فرمائے گا اے آدم تم اٹھو اور مخصوص لوگوں کو جہنم میں بھیجو وہ عرض کریں گے : جہنم میں کتنے لوگ بھیجے جائیں گے ؟ پروردگار فرمائے گا : ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات لوگوں پر گراں گزری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہوں گے اور مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا نصف ہوں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ عمل کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو کہ تم لوگ دو قسم کی مخلوق کے درمیان ہو وہ دونوں قسم کی مخلوق جس کسی کے ساتھ بھی ملے گی وہ اس کو زیادہ کر دے گی اور وہ یاجوج ماجوج ہے دیگر امتوں میں تمہاری مثال اونٹ کے پہلو میں موجود ، مختلف رنگ کی طرح ہے ، یا جانور کی دستی پر موجود ، نشان کی طرح ہے ، اور میری امت ایک ہزار اجزاء میں سے ایک جزء ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 11182
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ : يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا قَالَ : " ذَلِكَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، وَذَلِكَ يَوْمُ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِآدَمَ : قُمْ فَابْعَثْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ : مِنْ كَمْ يَا رَبِّ ؟ قَالَ : مِنْ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَنْجُو وَاحِدٌ " . فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَعَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَبْصَرَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ : " إِنَّ بَنِي آدَمَ كَثِيرٌ ، وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ مِنْ وَلَدِ آدَمَ ، وَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى يَرِثَهُ لِصُلْبِهِ أَلْفُ رَجُلٍ ، فَفِيهِمْ وَفِي أَشْبَاهِهِمْ جُنَّةٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَاسْتَحْسَنَ أَبُو حَاتِمٍ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ دن کہ جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ قیامت کا دن ہو گا اور اس دن اللہ تعالٰی سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا : تم اٹھو اور اپنی اولاد میں سے مخصوص لوگوں کو جہنم میں بھیج دو وہ عرض کریں گے : اے میرے پروردگار ! کتنے میں سے کتنے لوگوں کو ؟ تو پروردگار فرمائے گا : ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے کو اور ایک شخص نجات پائے گا یہ بات مسلمانوں کو گراں گزری ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ صورت حال جان لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے چہروں پر یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اولاد آدم بہت سی ہے ، اور یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہوں گے اور یاجوج ماجوج میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس کی سگی اولاد میں سے ایک ہزار لوگ اس کے وارث نہیں بنیں گے ، تو ان لوگوں اور ان جیسے دیگر لوگوں میں تمہارے لئے ڈھال ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، اور وہ متروک ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، اور وہ متروک ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابوحاتم نے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن کہا: ہے ۔