مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جس دن ہم پرہیزگار لوگوں کو رحمان کی بارگاہ میں وفد کی شکل اکٹھا کریں گے “
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ ، وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ ، وَلَكِنْ يُؤْتَوْنَ بِنُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا ، عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ ، يَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُونَ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤نعمان بن سعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” جس دن ہم پرہیزگار لوگوں کو رحمن کی بارگاہ میں وفد کی شکل میں اکٹھا کریں گے “ ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان لوگوں کو ان کے پاؤں کے بل اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور ان لوگوں کو ان کے قدموں کے بل اکٹھا نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں گے مخلوق نے ان جیسی اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی ان پر سونے کے بنے ہوئے پالان ہوں گے وہ ان پر سوار ہوں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازے پر آ جائیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔