مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو ! ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدُهُ فِي يَدِي ، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ رَثِّ الْهَيْئَةِ ، قَالَ : " أَبُو فُلَانٍ ؟ مَا الَّذِي بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى ؟ " ، قَالَ : الضُّرُّ وَالسَّقَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : "[ أَلَا ] أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يُذْهِبُ اللَّهُ عَنْكَ الضُّرَّ وَالسَّقَمَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، مَا يَسُرُّنِي بِهَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : "وَهَلْ يُدْرِكُ أَهْلَ بَدْرٍ وَأَهْلَ أُحُدٍ مَا يُدْرِكُ الْفَقِيرَ الْقَانِعَ ؟ " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فَعَلِّمْنِي ، قَالَ : فَقَالَ : " قُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الْقَيُّومِ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا " ، قَالَ : فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ حَسُنَتْ حَالِي فَقَالَ لِي : " مَهْيَمْ ؟ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَزَلْ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِيهُنَّ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے آپ کا دست مبارک میرے ہاتھ میں تھا ہمارے سامنے ایک شخص آیا جس کی ظاہری حالت خراب تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم ابوفلاں ہو ؟ تمہاری یہ صورت حال کیسے ہو گئی ، جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : پریشانی اور بیماری کی وجہ سے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں کچھ کلمات تعلیم نہیں دیئے تھے کہ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پریشانی اور بیماری کو تم سے دور کر دے گا ۔ انہوں نے عرض کی : جی نہیں مجھے اس کے بدلے میں یہ چیز بھی پسند نہیں ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کی ہوتی راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” کیا اہل بدر اور اہل احد اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں جہاں قناعت کرنے والا فقیر شخص پہنچتا ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں آپ مجھے ان کی تعلیم دیجئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” میں حی اور قیوم ذات پر توکل کرتا ہوں ، جسے موت نہیں آئے گی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور وہ کمزوری سے پاک ہے کہ اس کے لئے کسی مددگار کی ضرورت ہو اور تم اس کی اہتمام کے ساتھ کبریائی بیان کرو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میری حالت بہتر تھی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے جو کلمات تعلیم دیے تھے میں وہ مسلسل پڑھتا رہتا ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔