حدیث نمبر: 11144
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآخِرَهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مِنْ قَدَمِهِ إِلَى رَأْسِهِ ، وَمَنْ قَرَأَهَا كُلَّهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مَا بَيْنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص سورت کہف کا ابتدائی اور آخری حصہ تلاوت کر لے گا ، تو یہ چیز اس کے قدموں سے لے کر سر تک نور ہو گی اور جو شخص یہ پوری سورت تلاوت کر لے گا ، تو یہ اس کے لئے زمین سے لے کر آسمان تک کے درمیانی حصے میں نور ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (197/20) اخرجه احمد فى المسند (439/3)»