مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے گا “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللَّهِ : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا قَالَ : يُجْلِسُهُ [ فِيمَا ] بَيْنَهُ وَبَيْنَ جِبْرِيلَ ، وَيَشْفَعُ لِأُمَّتِهِ ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ إِذَا لَمْ يُتَابَعْ ، وَعَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ قِيلَ : لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے گا“ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یعنی پروردگار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے درمیان بٹھائے گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی شفاعت کریں گے ، تو یہ مقام محمود ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے جب اس کی متابعت نہ کی گئی ہو اور ایک راوی عطاء بن دینار ہے ایک قول کے مطابق اس نے سعید بن جبیر سے سماع نہیں کیا ہے ۔