مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو کہ حق آ گیا اور باطل چلا گیا “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، قَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهَا بِالرَّصَاصِ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبٌ ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ ، فَيَقُولُ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلَّهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اس وقت خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے شیطان نے ان کے قدموں میں سیسہ لگوا کے انہیں مضبوطی سے رکھوایا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے پاس ایک چھڑی تھی ، تو آپ اس چھڑی کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے اور وہ منہ کے بل گر جاتا تھا اور آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل نے جانا ہی تھا “ ۔ یہاں تک کہ آپ تمام بتوں کے پاس سے گزرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس اور ثقہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق غزوہ فتح سے متعلق باب میں پہلے گزر چکے ہیں ۔