حدیث نمبر: 11130
وَفِي رِوَايَةٍ : فَدَعَا ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا ، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ ؟ قَالَ : " بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ " . وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ وَقَعَ فِي أَحَدِ طُرُقِهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَهُوَ وَهْمٌ ، وَفِي بَعْضِهَا عِمْرَانُ أَبُو الْحَكَمِ ، وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور اس نے آپ سے یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو صبح ان لوگوں کے لئے صفا پہاڑ سونے کا ہو گا ، لیکن اس کے بعد ان لوگوں میں سے جس نے کفر کیا میں اسے ایسا عذاب دوں گا کہ ویسا عذاب میں نے تمام جہانوں میں کسی کو نہیں دیا ہو گا اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی : بلکہ میں توبہ اور رحمت کے دروازے ( کو اختیار کرتا ہوں ) ۔ دونوں روایتوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ اس کے طرق میں سے ایک میں ایک راوی عمران بن حکم ہے یہ وہم ہے بعض حضرات نے اس کا نام عمران ابوحکم بیان کیا ہے یہ حارث کا بیٹا ہے ، اور یہی صحیح ہے ، اور یہ صحیح کے رجال میں سے ہے
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2226)»