مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے صرف اس بات نے منع کیا ہے کہ پہلے والوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کی تکذیب کی تھی “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا ، وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا ، فَقِيلَ لَهُ : إِنْ شِئْتَ أَنْ نَسْتَأْنِيَ بِهِمْ ، وَإِنْ شِئْتَ نُؤْتِيهِمُ الَّذِي سَأَلُوا ، فَإِنْ كَفَرُوا هَلَكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ ؟ قَالَ : " بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ " . وَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمائش کی کہ آپ ان کے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیں اور پہاڑوں کو ان سے ہٹا دیں تاکہ وہ لوگ کھیتی باڑی کر سکیں ، آپ سے کہا: گیا : اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں مہلت دے دیتے ہیں ، اور اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں وہ چیز دے دیتے ہیں جو انہوں نے فرمائش کی ہے لیکن اگر پھر انہوں نے کفر کیا تو پھر یہ اسی طرح ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میں ان کو مہلت دیتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور ہمیں آیات بھیجنے سے صرف اس چیز نے منع کیا کہ پہلے لوگوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کو جھٹلایا تھا اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی عطا کی تھی جو کھلی نشانی تھی “ ۔