مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ہمیں نشانیاں بھیجنے سے صرف اس بات نے منع کیا ہے کہ پہلے والوں نے بھی ان ( نشانیوں ) کی تکذیب کی تھی “
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحِجْرِ قَالَ : " لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا [ فَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا ، وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا ، فَعَقَرُوهَا ] ، فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهَمَدَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ " . قِيلَ : مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَبُو رِغَالٍ ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَتَقَدَّمَ فِي سُورَةِ هُودٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجر کے مقام سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نشانیوں کے بارے میں فرمائش نہ کرو کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے نشانیاں مانگی تھیں تو وہ اونٹنی اس راستے سے یہاں آتی تھی ان لوگوں نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی اور اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے کیونکہ وہ ایک مخصوص دن میں ان کا پانی پیتی تھی اور وہ لوگ ایک مخصوص دن میں اس کا دودھ پیا کرتے تھے ، تو ان لوگوں نے اس کے پاؤں کاٹ دیے تو ان لوگوں کو ایک زبردست آواز نے اپنی گرفت میں لیا آسمان کے نیچے ان میں سے جتنے بھی لوگ موجود تھے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا صرف ایک شخص بچا جو اللہ کے حرم میں موجود تھا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اور غال تھا اور جب وہ حرم کی حدود سے باہر نکلا تو اسے بھی وہی چیز لاحق ہو گئی ، جو اس کی قوم کو لاحق ہوئی تھی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے جو اس سے پہلے سورت ہود سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔