حدیث نمبر: 11121
وَعَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ : اجْتَمَعَ مَسْرُوقٌ وَشُتَيْرُ بْنُ شَكَلٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : هَلْ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ : إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ حَلَالٌ وَحَرَامٌ وَأَمْرٌ وَنَهْيٌ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ مَذْكُورٍ فِي سُورَةِ الطَّلَاقِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوضحی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مسروق اور شتیر بن شکل مسجد میں اکٹھے ہوئے مسروق نے کہا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن میں حلال حرام ، امر اور نہی کے بارے میں سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ، اور فحاشی اور برائی سے منع کرتا ہے “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو دوسرے صاحب نے جواب دیا : جی ہاں تو مسروق نے کہا: میں نے بھی انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل کے حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو سورت طلاق کے باب میں ذکر ہو گی اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8661)»