مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک ابراہیم ایک امت تھا “
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . فَقَالَ فَرْوَةُ - رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ - : نَسِيَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ : وَمَنْ نَسِيَ ؟ إِنَّا كُنَّا نُشَبِّهُ مُعَاذًا بِإِبْرَاهِيمَ . وَسُئِلَ عَنِ الْأُمَّةِ ، فَقَالَ : مُعَلِّمُ الْخَيْرِ . وَسُئِلَ عَنِ الْقَانِتِ ، فَقَالَ : مُطِيعُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : ” بے شک معاذ ایک امت تھا ، جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار تھا اور باطل سے کنارہ کش تھا اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا “ ۔ تو اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص فروہ نے یہ کہا: یہ بھول گئے ہیں آیت میں اصل لفظ یہ ہے : ” بے شک ابراہیم “ تو انہوں نے کہا: کون بھولا ہے ؟ ہم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مشابہ قرار دیتے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے امت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد بھلائی کی تعلیم دینے والا ہے ان سے لفظ قانت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔