حدیث نمبر: 11120
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا إِذْ شَخَصَ بِبَصَرِهِ ، ثُمَّ صَوَّبَهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَلْزَقَ بِالْأَرْضِ ، قَالَ : وَشَخَصَ بِبَصَرِهِ قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضَعَ هَذِهِ الْآيَةَ بِهَذَا الْمَوْضِعِ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کے اوپر کی طرف دیکھا پھر آپ نے سر کو جھکا لیا یوں کہ قریب تھا کہ آپ زمین کے ساتھ مل جاتے پھر آپ نے اپنی نگاہ کو اوپر کی طرف اٹھایا پھر آپ نے بتایا : ” جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے یہ کہا: میں اس سورت کے اس مقام پر یہ آیت رکھ دوں “ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے احسان کرنے قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ، اور وہ فحاشی برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے ، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (218/4)»