مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے “
عَنْ شَهْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفِنَاءِ بَيْتِهِ جَالِسٌ ، إِذْ مَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، فَكَشَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَجْلِسْ ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَشَخَصَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، فَنَظَرَ سَاعَةً إِلَى السَّمَاءِ ، فَأَخَذَ يَضَعُ بَصَرَهُ حَيْثُ وَضَعَ بَصَرَهُ عَنْ يَمِينِهِ فِي الْأَرْضِ ، فَأَخَذَ يُنْغِضُ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ يَسْتَفْقِهُ مَا يُقَالُ لَهُ ، وَابْنُ مَظْعُونٍ يَنْظُرُ ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَاسْتَفْقَهَ مَا يُقَالُ لَهُ شَخَصَ بَصَرُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَارَى فِي السَّمَاءِ ، فَأَقْبَلَ عَلَى عُثْمَانَ بِجِلْسَتِهِ الْأُولَى فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، فِيمَا كُنْتُ أُجَالِسُكَ وَآتِيكَ ؟ مَا رَأَيْتُكَ تَفْعَلُ كَفِعْلِكَ الْغَدَاةَ قَالَ : " وَمَا فَعَلْتُ ؟ " ، قَالَ : رَأَيْتُكَ شَخَصْتَ بِبَصَرِكَ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ وَضَعْتَهُ حَيْثُ وَضَعْتَهُ عَنْ يَمِينِكَ ، فَتَحَرَّفْتَ إِلَيْهِ وَتَرَكْتَنِي ، فَأَخَذْتَ تُنْغِضُ رَأْسَكَ كَأَنَّكَ تَسْتَفْقِهُ شَيْئًا يُقَالُ لَكَ ، قَالَ : " وَفَطِنْتَ لِذَلِكَ ؟ " ، قَالَ عُثْمَانُ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي رَسُولُ رَبِّي - عَلَيْهِ السَّلَامُ - [ آنِفًا ] وَأَنْتَ جَالِسٌ " ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَمَا قَالَ لَكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ، قَالَ عُثْمَانُ : فَذَاكَ حِينَ اسْتَقَرَّ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي وَأَحْبَبْتُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَشَهْرٌ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤شہر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے اسی دوران سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ آپ کے پاس سے گزرے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر مسکرائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم بیٹھو گے نہیں انہوں نے عرض کی : جی ہاں پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کے بیٹھ گئے اور آپ کے ساتھ بات چیت کرنے لگے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی آپ کچھ دیر آسمان کی طرف دیکھتے رہے پھر آپ نے اپنی نگاہ جھکائی یہاں تک کہ آپ نے اپنے دائیں طرف زمین کی طرف نگاہ رکھی پھر آپ نے اپنے سر کو حرکت دی یوں جیسے آپ کو کوئی بات کہی جا رہی ہے ، اور آپ اسے سمجھ رہے ہیں ۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ یہ ساری چیزیں دیکھ رہے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پورا ہو گیا اور آپ کو جو بات کہی گئی تھی وہ آپ نے سمجھ لی تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہ بلند کی جس طرح پہلی مرتبہ بلند کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نگاہ کے ساتھ اس ( فرشتے ) کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ آسمان میں چھپ گیا سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ پہلی نشست میں ہی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جب سے میں آپ کے پاس بیٹھا ہوں اور آپ کے پاس آ رہا ہوں میں نے آپ کو اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح ابھی آپ نے کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا میں نے کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ پہلے آپ نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر اسے نیچے کر دیا یہاں تک کہ اپنے دائیں طرف کیا پھر آپ اس طرف متوجہ رہے ، اور آپ نے مجھے چھوڑ دیا پھر آپ نے اپنے سر کو ہلانا شروع کر دیا یوں جیسے آپ کوئی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ کو کہی جا رہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ صورت حال محسوس ہوئی تھی ؟ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پروردگار کا فرشتہ ابھی میرے پاس آیا تھا جب تم بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کا قاصد ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس نے آپ کو کیا کہا: ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس نے یہ آیت تلاوت کی : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے اور احسان کرنے اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ، اور فحاشی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو “ ۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس وقت ایمان میرے دل میں پختہ ہو گیا اور میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرنے لگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے نقل کی ہے شہر نامی راوی کو امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے جو نقصان دہ نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔