مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ غُسْلِ يَدِهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ وَالتَّسْمِيَةِ . باب: ہاتھ کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے اُسے دھو لینا اور بسم اللہ پڑھ لینا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ; فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ مِنْهُ ، وَيُسَمِّي قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَيُسَمِّي قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا " - وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ؛ نَسَبُوهُ إِلَى وَضْعِ الْحَدِيثِ . ¤سیدنا ابوہریرہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو ، تو وہ اپنا ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں داخل نہ کرے ، کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں لگ گیا ہو گا ؟ اور اسے برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے «بسم الله» بھی پڑھ لینی چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : اور اسے برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے «بسم الله» بھی پڑھ لینی چاہیے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے ، محدثین نے اس کی نسبت حدیث ایجاد کرنے کی طرف کی ہے ۔