مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ہمارے لیے برابر ہے خواہ ہم گریہ و زاری کریں یا ہم صبر سے کام لیں “
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا أَحْسَبُ - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ قَالَ : " يَقُولُ أَهْلُ النَّارِ هَلُمُّوا فَلْنَصْبِرْ " . قَالَ : " فَصَبَرُوا خَمْسَمِائَةِ عَامٍ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُمْ قَالُوا : هَلُمُّوا فَلْنَجْزَعْ " . قَالَ : " فَيَبْكُونَ خَمْسَمِائَةِ عَامٍ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُمْ قَالُوا : سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَنَسُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ ، هَكَذَا هُوَ فِي الطَّبَرَانِيِّ ، وَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ أَنَسَ بْنَ الْقَاسِمِ وَهُوَ أَنَسُ بْنُ أَبِي نُمَيْرٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ رَوَى عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، وَإِنَّمَا قَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ : إِنَّهُ رَوَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَوَى عَنِ الْفِرْيَابِيِّ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ ذَلِكَ . قُلْتُ : وَلَيْسَ كَذَلِكَ ؛ لِأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيَّ لَمْ يَرْوِ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ . ¤ وَالصَّوَابُ مَا هُوَ فِي الطَّبَرَانِيِّ ، أَنَّهُ رَوَى عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَرَوَى عَنْهُ الْفِرْيَابِيُّ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَقَدْ ذَكَرَ ابْنَ حِبَّانَ : أَنَسٌ أَبُو الْقَاسِمِ فِي هَذِهِ الطَّبَقَةِ طَبَقَةِ أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ - فَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں جو میرے خیال میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ( اہل جہنم کہیں گے ) ہمارے لئے برابر ہے کہ ہم آہ وزاری کریں یا ہم صبر سے کام لیں ہمارے لئے راہ فرار نہیں ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جہنم کہیں گے آؤ تاکہ ہم صبر کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وہ لوگ پانچ سو سال تک صبر کریں گے جب وہ یہ دیکھیں گے کہ یہ اس کا انہیں فائدہ نہیں ہوا تو وہ کہیں گے آؤ ہم گریہ وزاری کریں ، پھر وہ پانچ سو سال تک روتے رہیں گے جب وہ یہ دیکھیں گے کہ اس کا بھی انہیں نفع نہیں ہوا تو اس وقت وہ یہ کہیں گے کہ ہمارے لئے یہ برابر ہے خواہ ہم گریہ وزاری کریں یا صبر سے کام لیں ہمارے لئے کوئی راہ فرار نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی انس بن ابوالقاسم ہے ، اور یہ طبرانی میں اسی طرح ہے امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں انس بن قاسم کا ذکر کیا ہے وہ قاسم بن ابونمیر ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے کہ اس نے کعب احبار سے روایات نقل کی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے ابن ابوحاتم نے یہ کہا: ہے کہ اس نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں فریابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ میں نے اپنے والد کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ایسا نہیں ہے کیونکہ محمد بن یوسف فریابی نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے کسی سے روایت نقل نہیں کی ہے درست بات وہ ہے جو طبرانی میں مذکور ہے اس راوی نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے روایت نقل کی ہے ، اور اس سے فریابی نے روایت نقل کی ہے ، اور باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ ابن حبان نے انس ابوالقاسم کا ذکر اس طبقے میں یعنی تبع تابعین میں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔