مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ پاکیزہ درخت کی مانند “
حدیث نمبر: 11098
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ قَالَ : " هِيَ الَّتِي لَا تَنْفُضُ وَرَقَهَا [ وَظَنَنْتُ أَنَّهَا النَّخْلَةُ ] " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” پاکیزہ درخت کی مانند “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) اس سے مراد وہ درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) میرا خیال ہے اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔