مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات

11092 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ : أَيْشِ رَبُّكَ الَّذِي تَدْعُونِي ؟ مِنْ حَدِيدٍ هُوَ ؟ مِنْ نُحَاسٍ هُوَ ؟ مِنْ فِضَّةٍ هُوَ ؟ مِنْ ذَهَبٍ هُوَ ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَنْزَلَ عَلَى صَاحِبِكَ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُ " . فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِلَى رَجُلٍ مِنْ فَرَاعِنَةِ الْعَرَبِ . وَقَالَ الصَّحَابِيُّ فِيهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ أَعْتَى مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، قَالَ : فَأَعَادَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الْكَلَامَ ، فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ سَحَابَةً حِيَالَ رَأْسِهِ فَرَعَدَتْ ، فَوَقَعَتْ مِنْهَا صَاعِقَةٌ فَذَهَبَتْ بِقَحْفِ رَأْسِهِ . وَبِنَحْوِ هَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : فَرَعَدَتْ وَأَبْرَقَتْ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ دَيْلَمِ بْنِ غَزْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے جو ہر مؤنث اٹھاتی ہے ..... “ اور اس کے بعد کی آیات ہیں

حدیث نمبر: 11092
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ يَدْعُوهُ إِلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ : أَيْشِ رَبُّكَ الَّذِي تَدْعُونِي ؟ مِنْ حَدِيدٍ هُوَ ؟ مِنْ نُحَاسٍ هُوَ ؟ مِنْ فِضَّةٍ هُوَ ؟ مِنْ ذَهَبٍ هُوَ ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَعَادَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ أَنْزَلَ عَلَى صَاحِبِكَ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْهُ " . فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِلَى رَجُلٍ مِنْ فَرَاعِنَةِ الْعَرَبِ . وَقَالَ الصَّحَابِيُّ فِيهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ أَعْتَى مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ ، قَالَ : فَأَعَادَ عَلَيْهِ ذَلِكَ الْكَلَامَ ، فَبَيْنَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ سَحَابَةً حِيَالَ رَأْسِهِ فَرَعَدَتْ ، فَوَقَعَتْ مِنْهَا صَاعِقَةٌ فَذَهَبَتْ بِقَحْفِ رَأْسِهِ . وَبِنَحْوِ هَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : فَرَعَدَتْ وَأَبْرَقَتْ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ دَيْلَمِ بْنِ غَزْوَانَ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي رِجَالِ أَبِي يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت کے اکابرین کے پاس بھیجا تاکہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے ، تو اس شخص نے ( یعنی زمانہ جاہلیت کے فرد نے ) کہا: تم اپنے پروردگار کے بارے میں بتاؤ ، جس کی طرف تم دعوت دے رہے ہو کیا وہ لوہے کا بنا ہوا ہے یا پیتل کا بنا ہوا ہے یا چاندی کا ہے یا سونے کا ہے ؟ وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس صحابی کو اس شخص کی طرف بھیجا پھر اس نے اسی کی مانند بات کہی وہ صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ اس کی طرف اس شخص کو بھیجا تو اس نے پھر یہی بات کی وہ صحابی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے متعلقہ فرد پر آسمانی بجلی نازل کر دی ہے جس نے اسے جلا دیا ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے ، اور وہ اس تک پہنچ جاتی ہیں جس کو وہ چاہتا ہے جبکہ وہ لوگ اللہ کے بارے میں بحث کر رہے ہوتے ہیں ، اور وہ شدید گرفت کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عربوں کے فرعونوں میں سے ایک شخص کی طرف صحابی کو بھیجا اور صحابی نے اس کے بارے میں یہ کہا: ہے : اے اللہ کے رسول اس شخص نے سرکشی کا اظہار کیا ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ اس کی طرف بھیجا اور اس نے یہی بات دہرائی تو اسی دوران کہ وہ کافر شخص اس مسلمان کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جو اس شخص کے سر کے عین اوپر آ گیا اس میں سے بجلی کڑکی اس میں سے بجلی نکلی اور اس کا سر ختم ہو گیا ۔ اس کی مانند روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اس میں بجلی کڑکی اور بجلی چمکی “ ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف دیلم بن غزوان کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی کے رجال میں سے ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11092
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2221) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3341)»