حدیث نمبر: 11093
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى قَالَ : قَالُوا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَأَرِنَا أَشْيَاخَنَا الْأُوَلَ مِنَ الْمَوْتَى نُكَلِّمْهُمْ ، وَافْتَحْ لَنَا هَذِهِ الْجِبَالَ جِبَالَ مَكَّةَ الَّتِي قَدْ ضَمَّتْنَا . فَنَزَلَتْ وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ الزُّبَيْرِ فِي سُورَةِ طسم الشُّعَرَاءِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے ذریعے پہاڑوں کو چلا دیا جاتا یا زمین کو چیر دیا جاتا یا اس کے ذریعے مردوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر ویسا ہی ہے جس طرح آپ بیان کرتے ہیں ، تو آپ ہمارے پہلے کے مرحوم بزرگوں کو ہمیں دکھا دیں تاکہ ہم ان کے ساتھ بات چیت کریں اور آپ ہمارے لئے مکہ کے ان پہاڑوں کو کھول دیں جنہوں نے ہمیں بند کیا ہوا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اگر قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے ذریعے پہاڑوں کو چلا دیا جاتا یا اس کے ذریعے زمین کو چیر دیا جاتا یا اس کے ذریعے مردوں کے ساتھ بات چیت کی جا سکتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث طسم الشعراء کی تفسیر میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11093
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12617)»