مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَالْآيَاتُ بَعْدَهَا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے جو ہر مؤنث اٹھاتی ہے ..... “ اور اس کے بعد کی آیات ہیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَرْبَدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ جَزِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ كِلَابٍ وَعَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ بْنِ مَالِكٍ قَدِمَا الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ ، فَجَلَسَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ عَامِرٌ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا تَجْعَلُ لِي إِنْ أَسْلَمْتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ " . فَقَالَ عَامِرٌ : أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكَ وَمَا عَلَيْهِمْ " . قَالَ عَامِرٌ : أَتَجْعَلُ لِيَ الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ " . قَالَ عَامِرٌ : أَتَجْعَلُ لِي الْأَمْرَ إِنْ أَسْلَمْتُ مِنْ بَعْدِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ وَلَا لِقَوْمِكَ ، وَلَكِنْ لَكَ أَعِنَّةُ الْخَيْلِ " . فَقَالَ : أَنَا الْآنَ عَلَى أَعِنَّةِ خَيْلِ نَجْدٍ ، اجْعَلْ لِيَ الْوَبَرَ وَلَكَ الْمَدَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . فَلَمَّا خَرَجَ أَرْبَدُ وَعَامِرٌ قَالَ عَامِرٌ : يَا أَرْبَدُ ، إِنِّي أَشْغَلُ عَنْكَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ بِالْحَدِيثِ فَاضْرِبْهُ بِالسَّيْفِ فَإِنَّ النَّاسَ إِذَا قَتَلْتَهُ لَمْ يَزِيدُوا عَلَى أَنْ يَرْضَوْا بِالدِّيَةِ وَيَكْرَهُوا الْحَرْبَ ، فَسَنُعْطِيهِمُ الدِّيَةَ ، قَالَ أَرْبَدُ : أَفْعَلُ . قَالَ : فَأَقْبَلَا رَاجِعَيْنِ إِلَيْهِ ، فَقَالَ عَامِرٌ : يَا مُحَمَّدُ ، قُمْ مَعِي أُكَلِّمْكَ . فَقَامَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَلَّيَا إِلَى الْجِدَارِ ، وَوَقَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَلِّمُهُ ، وَسَلَّ أَرْبَدُ السَّيْفَ ، فَلَمَّا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى قَائِمِ السَّيْفِ يَبِسَتْ عَلَى قَائِمِ السَّيْفِ وَأَبْطَأَ أَرْبَدُ عَلَى عَامِرٍ بِالضَّرْبِ ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى مَا يَصْنَعُ فَانْصَرَفَ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا خَرَجَ عَامِرٌ وَأَرْبَدُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَضَيَا حَتَّى كَانَا بِالْحَرَّةِ - حَرَّةِ بَنِي وَاقِمٍ - نَزَلَا ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَ : اشْخَصَا يَا عَدُوِّيِ اللَّهَ . فَقَالَ عَامِرٌ : مَنْ هَذَا يَا سَعْدُ ؟ قَالَ : هَذَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْكَاتِبُ . فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّقْمِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَى أَرْبَدَ صَاعِقَةً فَقَتَلَتْهُ ، وَخَرَجَ عَامِرٌ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْخُرَيْمِ أَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ قُرْحَةً فَأَخَذَتْهُ ، فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي سَلُولٍ ، فَجَعَلَ يَمَسُّ الْقُرْحَةَ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ ، يَرْغَبُ أَنْ يَمُوتَ فِي بَيْتِهَا ، ثُمَّ رَكِبَ فَرَسَهُ فَأَرْكَضَهُ حَتَّى مَاتَ عَلَيْهِ رَاجِعًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمَا اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ إِلَى قَوْلِهِ : ( وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ ) قَالَ : الْمُعَقِّبَاتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ يَحْفَظُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ذَكَرَ أَرْبَدَ وَمَا قَتَلَهُ فَقَالَ : هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا إِلَى قَوْلِهِ : ( وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَلَمَّا قَفَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَامِرٌ : أَمَا وَاللَّهِ لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَمْنَعُكَ اللَّهُ " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اربد بن قیس بن جزی بن خالد بن جعفر بن کلاب اور عامر بن طفیل بن مالک یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ آئے یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف فرما تھے یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے عامر بن طفیل نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو آپ میرے لئے کیا مقرر کریں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمانوں کو ملتی ہے ، اور تم پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو ان پر لازم ہوتی ہے عامر نے کہا: اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو کیا آپ اپنے بعد مجھے حکومت دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمانوں کو ملے گی اور تم پر ہر وہ چیز عائد ہو گی جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے عامر نے کہا: اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو کیا آپ اپنے بعد مجھے حکومت دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ہر وہ چیز ملے گی جو مسلمانوں کو ملتی ہے ، اور تم پر ہر وہ چیز لازم ہو گی جو مسلمانوں پر لازم ہوتی ہے عامر نے کہا: اگر میں اسلام قبول کر لیتا ہوں تو کیا آپ اپنے بعد مجھے حکومت دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ چیز نہ تمہیں ملے گی نہ تمہاری قوم کو ملے گی لیکن تمہیں گھوڑوں کی لگامیں ، ملیں گی اس نے کہا: وہ تو اس وقت بھی نجد کے علاقے کے گھوڑوں کی لگامیں میرے پاس ہیں ، آپ میرے لئے دیہاتی علاقوں کی حکومت مقرر کر دیں اور اپنے لئے شہری علاقوں کی حکومت رکھ لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ۔ پھر اربد اور عامر وہاں سے نکلے عامر نے کہا: اے اربد میں محمد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھوں گا اور تم تلوار کے ذریعے ان پر حملہ کر دینا کیونکہ جب تم انہیں قتل کر دو گے ، تو لوگ زیادہ سے زیادہ یہ کریں گے کہ دیت پر راضی ہو جائیں گے وہ جنگ پر راضی نہیں ہوں گے ، تو ہم انہیں دیت دے دیں گے اربد نے کہا: ٹھیک ہے پھر وہ دونوں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے عامر نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ میرے ساتھ اٹھ کر آئیں میں آپ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ اٹھ کے چلے گئے یہ دونوں ایک دیوار کے پاس آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے ہو کر بات چیت کرنے لگے اس دوران اربد نے تلوار سونت لی جب اس نے اپنا ہاتھ تلوار کے دستے پر رکھا تو اس کا ہاتھ تلوار کے دستے پر خشک ہو گیا اربد نے ضرب لگانے میں تاخیر کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا ، تو آپ کو ان کا طرز عمل نظر آیا آپ ان دونوں کو چھوڑ کر تشریف لے گئے جب عامر اور اربد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے اور روانہ ہوئے تو یہ ابھی بنو واقم کی پتھریلی زمین پر موجود تھے وہاں ان دونوں نے پڑاؤ کیا تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نکل کر ان دونوں کے پاس گئے انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمنو ! تم خود جائزہ لے لو عامر نے کہا: اے سعد یہ کون ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا یہ اسید بن حضیر کاتب ہے پھر یہ دونوں نکلے یہاں تک کہ جب یہ رقم نامی جگہ پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اربد پر آسمانی بجلی بھیجی جس نے اسے مار دیا پھر عامر وہاں سے نکلا اور خریم کے مقام پر پہنچا وہاں اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک پھوڑا مسلط کیا وہ رات کے وقت بنوسلول سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ہاں ٹھہرا وہ اپنے حلق میں موجود اس پھوڑے پر ہاتھ پھیرتا تھا اور کہتا تھا یہ اونٹ کے غدہ کی مانند غدہ ہے جو ایک سلولیہ عورت کے گھر میں سامنے آیا ہے وہ شخص یہ چاہتا تھا کہ وہ اس عورت کے گھر میں نہ مرے پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اسے ایڑ لگائی یہاں تک کہ واپسی کے سفر کے دوران وہ گھوڑے پر ہی مر گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالٰی اس کو جانتا ہے جو ہر مؤنث بوجھ اٹھاتی ہے ، اور رحم جتنا سکڑتا ہے ، اور جتنا بڑھتا ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور ان کا اس ( اللہ ) کے علاوہ اور کوئی مددگار نہیں ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالٰی کے حکم کے تحت فرشتے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی حفاظت کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اس کے بعد راوی نے اربد کا ذکر کیا ، اور اس کے قتل ہونے کا ذکر کیا ، اور پھر یہ آیت تلاوت کی : ” وہی وہ ذات ہے جو تمہیں خوف دلانے اور امید دلانے کے لئے آسمانی بجلی دکھاتی ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” وہ سخت گرفت کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس گئے تو عامر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو ضرور جمع کروں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا نہیں کرنے دے گا ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔