مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 13 - سُورَةُ يُوسُفَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ باب: سورت یوسف کا بیان
عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ : جَاءَ بَشْنَانُ الْيَهُودِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي عَنْ أَسْمَاءِ النُّجُومِ الَّتِي رَآهَا يُوسُفُ تَسْجُدُ لَهُ ؟ قَالَ : " الْخَرْتَانُ وَطَارِقٌ وَالذَّيَّالُ وَقَابِسٌ وَالْمُصِحُّ وَالصَّرُوحُ وَذُو الْكَنَفَيْنِ وَذُو الْفَرْغِ وَالْفَيْلَقُ وَوَثَّابٌ وَالْعَمُودَانِ رَآهَا يُوسُفُ تَسْجُدُ لَهُ ، فَقَصَّهَا عَلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ : هَذَا أَمْرٌ مُتَفَرِّقٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ يَجْمَعُهُ بَعْدُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بشنان یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ مجھے ان ستاروں کے نام بتائیے جنہیں ۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ ستارے انہیں سجدہ کر رہے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( ان کے اسماء درج ذیل ہیں ) ” خرتان ، طارق ، ذیال ، قابس ، مصح ، صروح ، ذو کنفين ، ذوفرغ فیلق ، وثاب اور عمودان یہ وہ ستارے ہیں جنہیں ۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے دیکھا تھا کہ وہ انہیں سجدہ کر رہے ہیں انہوں نے اپنا خواب اپنے والد کو سنایا تو ان کے والد نے فرمایا : یہ متفرق معاملہ ہے شاید اللہ تعالیٰ بعد میں اسے اکٹھا کر دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔