مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یہی وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے پروردگار کی طرف جھوٹی بات منسوب کی “
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِي اللَّهُ بِالْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي حِجَابِهِ فَيَقُولُ لَهُ : اقْرَأْ صَحِيفَتَكَ ، فَيَقْرَأُ وَيُقَرِّرُهُ بِذَنْبٍ ذَنْبٍ ، وَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ؟ أَتَعْرِفُ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، فَيَقْرَأُ ، فَيَلْتَفِتُ يَمْنَةً وَيَسْرَةً ، فَيَقُولُ : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا عَبْدِي ، إِنَّكَ فِي سِتْرِي ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَى ذُنُوبِكَ غَيْرِي ، اذْهَبْ فَقَدْ غَفَرْتُهَا لَكَ . فَيُقَالُ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ . وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُقَالُ عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ بَهْرَامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو لے کر آئے گا یہاں تک کہ اسے حجاب میں رکھ دے گا اور اس سے فرمائے گا کہ تم اپنے نامہ اعمال کو پڑھو وہ پڑھے گا اور ایک ایک کر کے اپنے گناہوں کا اقرار کرتا جائے گا پروردگار دریافت کرے گا کیا تم نے اس کو پہچان لیا ۔ کیا تو نے اس کو پہچان لیا ؟ وہ عرض کرے گا : جی ہاں ۔ اے میرے پروردگار ! وہ بندہ پڑھے گا اور ساتھ ساتھ دائیں بائیں بھی دیکھے گا ، تو پروردگار فرمائے گا اے میرے بندے تمہارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے تم میرے پردے میں ہو میرے اور تمہارے درمیان اور کوئی نہیں ہے جو میرے علاوہ تمہارے گناہوں پر مطلع ہو سکے اب تم جاؤ میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے پھر اس بندے سے کہا: جائے گا ۔ تم جنت میں داخل ہو جاؤ لیکن جہاں تک کافروں کا تعلق ہے ، تو انہیں سب لوگوں کے سامنے یہ کہا: جائے گا “ ۔ ” یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے پروردگار کی طرف جھوٹی بات منسوب کی خبردار ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن بہرام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔