مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ان میں سے گواہ اس کی تلاوت کرے گا “
حدیث نمبر: 11076
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ فِي قَوْلِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : " وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ " أَنَّكَ أَنْتَ التَّالِي ؟ فَقَالَ : وَدِدْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ ، وَلَكِنَّهُ لِسَانُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
محمد بن علی بن ابوطالب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا لوگ یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مراد آپ ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ان میں سے ایک گواہ اس کی تلاوت کرے گا “ ۔ تو تلاوت کرنے والے فرد آپ ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ وہ میں ہوتا لیکن اس سے مراد سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، اور وہ متروک ہے ۔