مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک ابراہیم ’’ اواہ “ تھا “
حدیث نمبر: 11061
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ النَّاسَ كُلَّ يَوْمٍ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ انْتَابَهُ النَّاسُ مِنَ الرَّسَاتِيقِ وَالْقُرَى ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ أَعْمَى ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے جب جمعرات کا دن آتا تھا ، تو مختلف علاقوں اور مسجدوں سے لوگ ان کے پاس آ جاتے تھے ایک مرتبہ ایک نابینا شخص ان کے پاس آیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں پہلی دو روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔