مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک ابراہیم ’’ اواہ “ تھا “
وَعَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ الْعَامِرِيِّ ، وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُدْنِيهِ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ ؟ فَرَقَّ لَهُ فَقَالَ : مَا الْأَوَّاهُ ؟ قَالَ : الرَّحِيمُ . قَالَ : فَمَا الْأُمَّةُ ؟ قَالَ : الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ . قَالَ : فَمَا الْقَانِتُ ؟ . قَالَ : الْمُطِيعُ . قَالَ : فَمَا الْمَاعُونُ ؟ قَالَ : مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ . قَالَ : فَمَا التَّبْذِيرُ ؟ قَالَ : إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ، وَفِي رِوَايَةٍ : فِي غَيْرِ حِلِّهِ . ¤ابوعبیدین عامری ، جن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں اپنے قریب رکھتے تھے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم آپ سے نہیں پوچھیں گے ، تو کس سے پوچھیں گے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں نرمی محسوس ہوئی انہوں نے دریافت کیا : اواہ سے مراد کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا رحم دل ، انہوں نے دریافت کیا : امت سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دے انہوں نے دریافت کیا : قانت سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فرمانبردار انہوں نے دریافت کیا لفظ ماعون سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کہ لوگ باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے دریافت کیا تبذیر سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مال کو ناحق طور پر خرچ کرنا ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مال کو ناجائز طور پر خرچ کرنا ۔