مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جنات عدن میں پاکیزہ ٹھکانے “
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَقِيتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُمَا عَنْ تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ قَالَا : عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ، سَأَلْنَا عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ ، فِي ذَلِكَ الْقَصْرِ سَبْعُونَ أَلْفَ دَارٍ مِنْ زُمُرُّدَةٍ خَضْرَاءَ ، فِي كُلِّ بَيْتٍ مِنْهَا سَبْعُونَ سَرِيرًا ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا مِنْ كُلِّ لَوْنٍ ، عَلَى كُلِّ فِرَاشٍ امْرَأَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، فِي كُلِّ بَيْتٍ مَائِدَةٌ عَلَى كُلِّ مَائِدَةٍ سَبْعُونَ لَوْنًا ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ وَصِيفًا أَوْ وَصِيفَةً ، يُعْطَى مِنَ الْقُوَّةِ مَا يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ فِي غَدَاةٍ وَاحِدَةٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤حسن بصری بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان دونوں حضرات سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جنات عدن میں پاکیزہ ٹھکانے “ ۔ تو ان دونوں حضرات نے یہ جواب دیا : تم نے اس بارے میں باخبر شخص سے رجوع کیا ہے ہم نے ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ” یہ موتی سے بنے ہوئے محلات ہوں گے اور ایک محل میں ستر ہزار دروازے ہوں گے جو سبز زمرد سے بنے ہوئے ہوں گے ہر ایک گھر میں ستر پلنگ ہوں گے جن میں سے ہر ایک پلنگ پر ستر بچھونے ہوں گے جو مختلف رنگوں کے ہوں گے اور ہر ایک بچھونے پر ایک حورعین بیوی ہو گی ہر گھر میں ایک دستر خوان ہو گا ہر دستر خوان پر ستر قسم کے کھانے ہوں گے اور ہر گھر میں ستر ملازمین یا ملازمائیں ہوں گی اور جنتی کو یہ قوت عطا کی جائے گی کہ وہ ایک ہی دن میں ان سب سے لطف لے سکے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے سعید بن عامر نے اسے ثقہ قرار دیا ہے طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔