حدیث نمبر: 11026
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : نَزَلَ الْإِسْلَامُ بِالْكُرْهِ وَالشِّدَّةِ ، فَوَجَدْنَا خَيْرَ الْخَيْرِ فِي الْكَرَاهَةِ ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ ، فَجُعِلَ لَنَا فِي ذَلِكَ الْعَلَاءُ وَالظَّفَرُ ، وَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ) ( يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ) ( وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ ) ، وَالشَّوْكَةُ قُرَيْشٌ ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِي ذَلِكَ الْعَلَاءَ وَالظَّفَرَ ، فَوَجَدْنَا خَيْرَ الْخَيْرِ فِي الْكُرْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسلام ایسی حالت میں نازل ہوا کہ جب ناگواری تھی اور سختی تھی ، تو ہم نے جس چیز کو ناپسند کیا اس میں سب سے زیادہ بہتری پائی ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے نکلے آپ نے ہمارے لئے سر بلندی اور کامیابی طے کی ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف ایسی حالت میں نکلے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس چیز کو ناپسند کرتا تھا وہ حق کے بارے میں آپ سے اختلاف کر رہے تھے حالانکہ وہ واضح ہو چکا تھا وہ یوں تھے جیسے انہیں موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہے ، اور وہ دیکھ رہے ہیں ، اور جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا کہ وہ تمہیں ملے گا اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ والا ملے جس میں لڑائی نہ کرنی پڑے “ ۔ یہاں شوکت سے مراد قریش ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس صورت حال میں سر بلندی اور کامیابی مقرر کر دی اور ہم نے جس چیز کو ناپسند کیا تھا اس میں سب سے بہتری پائی ۔
یہ روایت امام بزر نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک روی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2214)»