مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 9 - ( سُورَةُ الْأَنْفَالِ ) باب: سورت انفال کا بیان
حدیث نمبر: 11025
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - عَنِ الْأَنْفَالِ ، فَقَالَ : فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا ، فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ . يَقُولُ : عَلَى السَّوَاءِ . وَرِجَالُ الطَّرِيقَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انفال کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ ہمارے یعنی اصحاب بدر کے بارے میں آیت نازل ہوئی تھی : جب ہم نے مال غنیمت کے بارے میں اختلاف کیا تھا اور اس بارے میں ہمارے اخلاق خراب ہو گئے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے لیا اور اپنے رسول کے لئے مقرر کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برابری کی بنیاد پر اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ دونوں طرق کے رجال ثقہ ہیں ۔