حدیث نمبر: 11019
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ : ( وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهُمْ ) قَالَ : جَمَعَهُمْ ، فَجَعَلَهُمْ أَزْوَاجًا ، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا ، ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ " أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى " قَالَ : إِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ [ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ ] ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا ، اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي وَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا ، إِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي ، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي ، قَالُوا : شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا ، لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ ، فَأَقَرُّوا ، وَرَفَعَ عَلَيْهِمْ آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ ؟ قَالَ : إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ ، وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلُ السُّرُجِ عَلَيْهِمْ ، خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى : وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ : عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ - عَلَيْهَا السَّلَامُ - فَحَدَّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الرَّبَالِيِّ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا “ ۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اکٹھا کیا انہیں جوڑوں کی شکل میں بنایا ان کی شکلیں بنائیں انہیں گویائی عطا کی ان لوگوں نے بات چیت شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے میثاق لیا اور ان لوگوں کو ان کے اپنے وجود کے بارے میں گواہ بنایا اور فرمایا کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں تو پروردگار نے فرمایا : میں سات آسمانوں اور سات زمینوں کو تم پر گواہ بنا رہا ہوں اور تمہارے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام کو تم پر گواہ بنا رہا ہوں تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہمیں اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا تم لوگ یہ بات جان لو کہ میرے بعد کوئی معبود نہیں ہے ، اور میرے علاوہ اور کوئی پروردگار نہیں ہے ، اور تم کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہرانا میں تمہاری طرف رسولوں کو مبعوث کروں گا ، جو میرا عہد اور میرا میثاق تمہیں یاد دلائیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں نازل کروں گا ، تو ان لوگوں نے یہ کہا: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا پروردگار اور ہمارا معبود ہے ہمارا تیرے علاوہ اور کوئی پروردگار نہیں ہے ، اور ہماری تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ان لوگوں نے اس بات کا اقرار کیا سیدنا آدم علیہ السلام کو ان کے اوپر کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کا جائزہ لیں ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے خوشحال اور غریب ، خوبصورت شکل کے اور کمتر شکل کے ( تمام افراد کو ) دیکھ لیا انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو نے اپنے بندوں کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا تو پروردگار نے فرمایا : میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میرا شکر کیا جائے گا ، پھر سیدنا آدم علیہ السلام نے انبیاء کرام کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں کے درمیان یوں تھے جیسے چراغ ہوتے ہیں ان انبیاء کرام کو ایک اور میثاق کے حوالے سے مخصوص کیا گیا جو رسالت اور نبوت کے بارے میں تھا اور اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : ” اور جب ہم نے انبیاء سے ان کا میثاق لیا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” عیسیٰ بن مریم “ ۔ یہ ان ارواح میں ایک تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو سیدہ مریم علیہا السلام کی طرف بھیجا تھا راوی نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ سیدہ مریم علیہا السلام کے منہ کی طرف سے ان میں داخل ہوئے تھے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اپنے استاد محمد بن یعقوب ربالی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (135/5)»