مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا وہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ جائیں یا تمہارا پروردگار ان کے پاس آ جائے یا تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آ جائے “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ : ( هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ) ، قَالَ : طُلُوعُ الشَّمْسِ مَعَ الْقَمَرِ مِنْ مَغْرِبِهَا كَالْبَعِيرَيْنِ الْقَرِينَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، إِحْدَاهُمَا هَذِهِ ، وَفِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْأُخْرَى مُخْتَصَرَةٌ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ صرف اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں ان کے پاس فرشتے آ جائیں یا تمہارا پروردگار آ جائے یا تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آ جائے جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آ گئی تو اس دن کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا جس نے اپنے ایمان میں اس سے پہلے کوئی بھلائی نہیں کی تھی “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد سورج کا چاند کے ہمراہ مغرب کی طرف سے نکل آنا ہے جس طرح دو ساتھ چلنے والے اونٹ ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک یہ ہے ، اور اس میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے جبکہ دوسری روایت مختصر ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔