حدیث نمبر: 11006
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي قَوْلِهِ : ( هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ) ، قَالَ : طُلُوعُ الشَّمْسِ مَعَ الْقَمَرِ مِنْ مَغْرِبِهَا كَالْبَعِيرَيْنِ الْقَرِينَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، إِحْدَاهُمَا هَذِهِ ، وَفِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْأُخْرَى مُخْتَصَرَةٌ ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ صرف اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں ان کے پاس فرشتے آ جائیں یا تمہارا پروردگار آ جائے یا تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آ جائے جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آ گئی تو اس دن کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا جس نے اپنے ایمان میں اس سے پہلے کوئی بھلائی نہیں کی تھی “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد سورج کا چاند کے ہمراہ مغرب کی طرف سے نکل آنا ہے جس طرح دو ساتھ چلنے والے اونٹ ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک یہ ہے ، اور اس میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے جبکہ دوسری روایت مختصر ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11006
درجۂ حدیث محدثین: ایک سند ضعیف (بوجہ عبد اللہ بن محمد بن سعید) ہے، جبکہ دوسری سند کے رجال ثقہ ہونے کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے۔