مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے ، تو تم اس کی پیروی کرو “
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطًّا ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ " . ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذِهِ سُبُلٌ مُتَفَرِّقَةٌ ، عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر لگائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے پھر آپ نے اس کے دائیں اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں لگائیں اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” یہ دوسرے راستے ہیں جن میں سے ہر ایک راستے پر شیطان موجود ہے جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے ، تو تم اس کی پیروی کرو اور تم مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ تم اصل راستے سے بھٹک جاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔