مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا وہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ جائیں یا تمہارا پروردگار ان کے پاس آ جائے یا تمہارے پروردگار کی کوئی نشانی آ جائے “
حدیث نمبر: 11007
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ : ( يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ) ، قَالَ : " طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ فِي أَمَارَاتِ السَّاعَةِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن تمہارے پروردگار کی نشانیوں میں سے ایک آ جائے گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : قیامت کی نشانیوں سے متعلق باب میں اس کے مختلف طرق مذکور ہیں ۔