مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ ، وَقَوْلُهُ تَعَالَى : وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈراؤ جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے پروردگار کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائے گا “ ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم لوگوں کو پرے نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں “
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَبَّابٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، أَرَضِيتَ بِهَؤُلَاءِ ؟ فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَى قَوْلِهِ : ( وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ ) . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا ؟ لَوْ طَرَدْتَ هَؤُلَاءِ لَاتَّبَعْنَاكَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِلَى قَوْلِهِ : ( أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ ) . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُرْدُوسٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ موجود تھے ان مشرکین نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ ان لوگوں سے راضی ہیں تو ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اور اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈارؤ جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے پروردگار کی بارگاہ میں اکٹھا کیا جائے گا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تا ہم امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ان لوگوں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا یہ وہ لوگ ہیں کہ ہمارے درمیان میں سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا ہے اگر آپ ان لوگوں کو پرے کر دیں تو ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم ان لوگوں کو پرے نہ کرے جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبات کرتے ہیں “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” کہ اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف کردوس نامی راوی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔