مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں “
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي بَعْضِ أَبْيَاتِهِ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ، خَرَجَ يَلْتَمِسُ ، فَوَجَدَ قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ ، مِنْهُمْ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَحَافِ الْجِلْدِ وَذُو الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، فَلَمَّا رَآهُمْ جَلَسَ مَعَهُمْ فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ أَمَرَنِي أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ ذَكَرَ الطَّبَرَانِيُّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فِي الصَّحَابَةِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی آپ اس وقت اپنے کسی گھر میں موجود تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاش میں نکلے تو آپ نے کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پایا ان میں سے ایسے لوگ بھی تھے کہ کسی کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے کسی کی جلد پر کچھ نہیں تھا کسی نے ایک کپڑا پہنا ہوا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ملاحظہ فرمایا تو آپ ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے ہیں کہ جن کے بارے میں مجھے اس نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی نے عبدالرحمن نامی راوی کا ذکر صحابہ کرام میں کیا ہے ۔