مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جب وہ اس چیز کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی ، تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے “
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الْعَبْدَ فِي الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ " . ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو کہ وہ کسی بندے کو دنیا میں اس کے گناہوں کے باوجود اس کی پسندیدہ چیزیں عطا کرتا ہے ، تو یہ چیز استدراج ہو گی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی ” جب وہ اس چیز کو بھول گئے جو انہیں نصیحت کی گئی تھی ، تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ لوگ اس چیز سے خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھی اور پھر ہم نے اچانک ان پر گرفت کی تو اس وقت مایوس ہو کے رہ گئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو اس قوم کی جڑ کاٹ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے “ ۔