مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک وہ لوگ تمہاری تکذیب نہیں کریں گے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : فَإِنَّهُمْ لَا يُكْذِبُونَكَ مُخَفَّفَةً ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَقْرَؤُونَهَا ، قَالَ : لَا يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ لَا يَكُونَ رَسُولًا ، وَلَا عَلَى أَنْ لَا يَكُونَ الْقُرْآنُ قُرْآنًا ، فَأَمَّا أَنْ يُكْذِبُوكَ بِأَلْسِنَتِهِمْ فَهُمْ يُكَذِّبُونَكَ ، وَذَاكَ الْإِكْذَابُ وَذَاكَ التَّكْذِيبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : یہ آیت یوں پڑھی جائے گی فانہم لا یکذ بونک یعنی تخفیف کے ساتھ پڑھی جائے گی وہ لوگ اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یعنی وہ لوگ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رسول نہ ہوں ، اور نہ ہی وہ اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ قرآن قرآن نہ ہو لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ اپنی زبان کے ذریعے آپ کا اکذاب کرتے ہیں ، تو وہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں ، یہ اکذاب ہے ، اور وہ تکذیب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عمارہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔