مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ( لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ) باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جب تم ہدایت یافتہ ہو ، تو جو گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا “
عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : كَانَ قَتْلُ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا غَيَّرْتَ يَا أَبَا عَامِرٍ " ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " أَيْنَ ذَهَبْتُمْ ؟ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَلَفْظُهُ عَنْ أَبِي عَامِرٍ أَنَّهُ كَانَ فِيهِمْ شَيْءٌ ، فَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَبَسَكَ ؟ " . قَالَ : قَرَأْتُ هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِعَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ سَمَاعًا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤سیدنا ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں میں سے ایک شخص اوطاس میں قتل ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ابوعامر ! کیا تم نے اسے تبدیل نہیں کیا ؟ سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کی : ” اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جب تم ہدایت یافتہ ہو ، تو جو گمراہ ہو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کہاں جا رہے رہو ؟ اس سے مراد یہ ہے : اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے کفار میں سے جو شخص گمراہ ہو جائے وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کے نقل کردہ الفاظ یہ ہیں : سیدنا ابوعامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان لوگوں میں کوئی چیز تھی جس کی وجہ سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آ سکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم لوگوں کو کس چیز نے روکا ؟ وہ کہتے ہیں : میں نے یہ آیت تلاوت کر دی : ” اے ایمان والو ! تم پر اپنا خیال رکھنا لازم ہے جب تم ہدایت یافتہ ہو جو گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا “ ۔ تو نبی اکرم سر صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کفار سے تعلق رکھنے والا جو گمراہ ہو وہ تمہیں نقصان نہیں دے گا جبکہ تم ہدایت یافتہ ہو ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں البتہ میں نے علی بن مدرک کے صحابہ کرام میں سے کسی ایک سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔