حدیث نمبر: 10987
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ قَالَ : هِيَ فِي التَّوْرَاةِ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْزَلَ الْحَقَّ لِيُذْهِبَ بِهِ الْبَاطِلَ ، وَيُبْطِلَ بِهِ اللَّعِبَ وَالْكِنَّارَاتِ وَالزَّمَّارَاتِ وَالزِّفْنَ وَالْمَعَازِفَ وَالْمَزَاهِرَ وَالسِّعْرَ ، وَأَقْسَمَ رَبِّي بِيَمِينٍ لَا يَشْرَبُهَا عَبْدٌ بَعْدَ مَا حَرَّمْتُهَا إِلَّا أَعْطَشَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يَدَعُهَا بَعْدَ مَا حَرَّمْتُهَا إِلَّا سَقَيْتُهُ بِحَظِيرِ الْقُدْسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثٍ صَحِيحٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت قرآن میں موجود ہے ۔ ” اے ایمان والو ! بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے عمل سے تعلق رکھنے والی ناپاک چیزیں ہیں تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت تورات میں بھی تھی اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل کیا تاکہ اس کے ذریعے باطل کو ختم کر دے اور اس کے ذریعے لعب ، کنارات ( طنبورہ یا کھیلنے کی لکڑیاں ) مزامیر ، رقص ، آلات موسیقی ، شاعری کو کالعدم قرار دے دیں اور میرے پروردگار نے یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں نے جب ان کو حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد جو بھی بندہ اس کو پیئے گا ، تو میں اس کو پیاسا رکھوں گا اور جب میں نے اسے حرام قرار دے دیا تو اس کے بعد جو بھی بندہ اسے ترک کیے رکھے گا ۔ میں اسے حظیرة القدس میں سے پلاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے صحیح حدیث کے آخر میں نقل کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ہے ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” بے شک ہم نے تمہیں گواہ بنا کے بھیجا ہے “ ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح