مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک شراب اور جوا “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فِي قَبِيلَتَيْنِ مِنْ قَبَائِلِ الْأَنْصَارِ شَرِبُوا حَتَّى إِذَا ثَمِلُوا ، عَبَثَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ ، فَلَمَّا صَحَوْا جَعَلَ الرَّجُلُ يَرَى الْأَثَرَ بِوَجْهِهِ وَبِرَأْسِهِ وَبِلِحْيَتِهِ يَقُولُ : فَعَلَ هَذَا أَخِي فُلَانٌ ، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ بِي رَؤُوفًا رَحِيمًا مَا فَعَلَ هَذَا بِي . وَقَالَ : كَانُوا إِخْوَةً لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ضَغَائِنُ ، فَوَقَعَتْ فِي قُلُوبِهِمُ الضَّغَائِنُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ . ¤ فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ : هِيَ رِجْسٌ ، وَهِيَ فِي بَطْنِ فُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَفُلَانٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - : ( لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا ) - الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَشْرِبَةِ نَحْوُ هَذَا فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : شراب کی حرمت کا حکم انصار کے قبائل میں سے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوا انہوں نے شراب پی جب وہ نشے میں دھت ہو گئے تو ایک دوسرے کے ساتھ فضول حرکتیں کرنے لگے جب انہیں ہوش آیا ، تو ایک شخص نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر اور سر پر اور داڑھی پر نشان موجود ہیں تو اس نے کہا: میرے فلاں بھائی نے ایسا کیا ہے اللہ کی قسم ! اگر وہ میرے بارے میں مہربان اور رحم کرنے والا ہوتا تو وہ میرے ساتھ ایسا نہ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : وہ آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے دلوں میں کوئی دشمنی نہیں تھی لیکن پھر ان کے دلوں میں اختلافات آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر شیطان کے عمل سے تعلق رکھنے والی ناپاک چیزیں ہیں تو تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے حوالے سے تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی پیدا کر دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے ، تو کیا تم ( شراب اور جوئے وغیرہ سے ) باز آنے والے ہو “ ۔ تو کچھ لوگوں نے یہ کہا: یہ تو نا پاک چیز ہے ، اور یہ فلاں شخص کے پیٹ میں بھی موجود تھی جو غزوہ بدر کے دن شہید ہو گیا تھا اور فلاں شخص کے پیٹ میں بھی موجود تھی ، جو فلاں غزوہ کے موقع پر شہید ہو گیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا جو وہ پہلے کھا چکے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے مشروبات سے متعلق باب میں اس نوعیت کی حدیث شراب کی حرمت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔