حدیث نمبر: 10973
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ : إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا هُمُ الْيَهُودُ ، وَزَنَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ ، وَقَدْ كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حَكَمَ فِي التَّوْرَاةِ فِي الزِّنَا الرَّجْمَ ، فَنَفِسُوا أَنْ يَرْجُمُوهَا [ وَقَالُوا : انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمِّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ رُخْصَةٌ ، فَاقْبَلُوهَا ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّ امْرَأَةً مِنَّا زَنَتْ فَمَا تَقُولُ فِيهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ حُكْمُ اللَّهِ فِي الزَّانِي فِي التَّوْرَاةِ ؟ " . فَقَالُوا : دَعْنَا مِنَ التَّوْرَاةِ ، فَمَا عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِأَعْلَمِكُمْ بِالتَّوْرَاةِ الَّتِي أُنْزِلَتْ عَلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . فَقَالَ لَهُمْ : " بِالَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ وَبِالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ فَأَنْجَاكُمْ وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ إِلَّا أَخْبَرْتُمُونِي مَا حُكْمُ اللَّهِ فِي التَّوْرَاةِ فِي الزَّانِي ؟ " ، فَقَالُوا : حُكْمُ اللَّهِ الرَّجْمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” ( ان لوگوں نے کہا: ) اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو اس کو حاصل کر لینا اور اگر تمہیں نہ دیا جائے تو تم بچ جانا “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ) اس سے مراد یہودی ہیں ان میں سے ایک عورت نے زنا کیا تھا اللہ تعالیٰ نے تورات میں زنا کے بارے میں سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے ، تو ان لوگوں نے اس عورت کو سنگسار کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ، اور یہ کہا: تم لوگ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے ان کے پاس کوئی رخصت موجود ہو اگر ہوئی تو تم اس کو قبول کر لینا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے ابوالقاسم ! ہم میں سے ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تورات میں زنا کرنے والے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا: آپ تورات کو رہنے دیں آپ یہ بتائیں کہ آپ کے پاس کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے پاس ایسے شخص کو لے کر آؤ جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی تورات کا تم میں سے سب سے زیادہ علم رکھتا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس نے تم لوگوں کو آل فرعون سے نجات عطا کی تھی اور اس ذات کی قسم جس نے سمندر کو چیر دیا تھا اور تمہیں نجات عطا کی تھی اور فرعون کے ماننے والوں کو ڈبو دیا تھا تم مجھے بتاؤ کہ زنا کرنے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم کیا ہے ؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کا حکم تو سنگسار کرنے کا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور علی بن ابوطلحہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13033)»